Skip navigation

نويں برطانوی حج وفد 2007 كا افتتاح

  میں آج یہاں آكر بہت فخرمحسو س كر رہاہوں،  سب سے پہلے السلام علیكم

آج حج وفد كا افتتاح كر نا میرے لئے بڑے اعزاز كی بات ہے۔دو ملین مسلمان ،بلكہ شاید اس سے بھی زیادہ،بر طانیہ میں آبادہیں اور میں نے پڑھ ركھا ہے كہ حج مسلمانوں كے عقیدے كے پانچ بنیادی اركان میں سے ایک ہے۔ اس سفر کے لئے بر طانوی مسلمانوں کی قوت ارادی، ان کے کردار کی مضبوطی اور عزم راسخ بذات خودمسلمان کمیونٹی کی عقیدت کا ثبوت ہے۔ لیکن اس کے علاوہ حج ایک اور وسیع تر پیغام بھی دیتا ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے پڑھا ہے کہ کئی و ہ اقداراور جبلتیں جن کو حج اجاگر کرتا ہے وہ وہی ہیں جن کو تمام برطانوی شہری مانتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتےہوں ۔امن، انصاف ، تمام انسانوں کی برابری وہ اقدار ہیں جو تمام بر طانوی کمیونٹی میں مشترک ہیں۔میںسمجھتا ہوں کہ آج اس موقع پر جبکہ ہم بر طانیہ کی اہم کمیونٹیوں میں سے ایک کی مذہبی اور ثقافتی تقریب میں شریک ہیںاس عالمی پیغام کا نمایاں کیا جانا بہت اہم ہے۔

لارڈ پٹیل!  آپ نے بڑی انکساری سے یہ بتایا کہ آٹھویں حج وفد کی قیادت آپ نے کی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہتے ہوئے میں سب کے احساسات کی ترجمانی کررہا ہوں کہ آپ نے گزشتہ بر سوں میں جو قیادت فراہم کی ہے وہ متاثر کن رہی ہے۔میرے خیال میں اس نے نہ صرف بر طانیہ کی مسلمان کمیونٹی پر گہرا اثر ڈالاہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں ہماری مسلمان کمیونٹی کی شناخت ابھری ہے اور یہ حقیقت نمایاں ہوئی ہے کہ مسلمان کمیونٹی ہر سطح سے لیکردارالامرا تک بر طانوی معاشرت کا کتنا اہم حصہ ہے۔

میں نے راستے میں لارڈصاحب سے پوچھا تھا کہ کیا یہ وفد پہلے سے بڑا اور بہتر ہے تو انہوں نے جواب میں کہاکہ یہ ہمیشہ بہترہوتا ہے اور بہتر ہو تا جارہا ہے۔آپ نے فارن آفس کے اہلکاروں کے بارے میں جن اچھے خیالات کا اظہار کیا وہ میرے نزدیک بڑے اہم ہیں۔وہاں کونسلر عملے کے علاو ہ یہاں سے میڈیکل عملہ بھی آپ کی مددکے لئے جارہا ہے۔اعدادو شمار سے معلو م ہوتا ہے کہ روزانہ 270سے 280کیسوں میں مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ وفدمحض اضافی امداد فراہم نہیں کرتا بلکہ میرے نز دیک یہ دیکھ بھال  اور طبی امدادکا بہت فعال نظام ہے اور ملک کاایک اچھا تصور نمایاں کرتا ہے

لہذا میرا پہلاپیغام تو یہ بتا نا ہے کہ میں یہاں آ کر کتنا فخر محسوس کر رہاہوں اور میں حج کے لئے نیک تمناؤ ں کا اظہار کر تا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کاحوا لہ لارڈپٹیل نے بھی دیا کہ مغربی یورپ میں یہ واحدملک ہے جو اپنی مسلمان کمیونٹی کے ساتھ اس طرح سے تعاون کرتا ہے۔

جیسا کہ میں نے کہاہے کہ بر طانیہ کے پا س عالمی مرکز بننے کا ایک منفردموقع ہے۔ایک ایسا مرکز جہاں سے آج دنیا کو درپیش تمام، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی سوالوں کے جواب کے لئے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ہمارے پاس یہ موقع اس لئے ہے

کہ ہم اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے رکن ہیں،  ہمیں یہ موقع اس لئے حاصل ہے کہ ہم یورپی یونیں کے رکن ہیں،  ہمیں یہ موقع اس لئے حاصل ہے کہ ہم دولت مشترکہ کے رکن ہیںجس کا اجلاس دو ہفتے میں ہونے والا ہے اور جس میں دنیا کے شمال، مشرق، جنوب اور مغرب سے تمام آبادی کے چو تھائی حصے کے نمائندے اکھٹا ہونگے جن میں تمام نسلوں،تمام مذاہب اور تمام خطوں کے لوگ شامل ہونگے اور ہمیں یہ موقع اس لئے بھی حاصل ہے کہ ہمارا دوسرے اہم ممالک سے ایک رشتہ ہے ، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا سے جس سے ہمارے بہت اہم دو طرفہ تعلقات ہیں۔

یہ تعلقات جو تاریخ کی پیداوار ہیں ہمیں ایک ایساعالمی مرکزبننے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو نظریات،افراد اور کچھ وہ توانائی اور محرک فراہم کرتا ہے جو ہمارے اس مشترکہ کرہ ارض کو بہتر تحفظ اور سیکیورٹی فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

لیکن ان کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہے جس کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ ہم خارجی امور میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہم دوبارہ ایک سلطنت کبھی نہیں بنیں گے لیکن ہم عالمی معاملات میں ایک موثر قوت بن سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ

 بر طانیہ، اس کے عوام اور بر طانیہ کی مسلمان کمیونٹی اس کاثبوت ہیں ،  اس کی کامیابیاں اور مسلمان کمیونٹیز کی اپنے تمام تر تنوع کے ساتھ جدوجہد اس کامظہر ہیں۔ شایدمجھے مسلمان کمیونٹیز کی بجائے مسلمان کمیونٹی کی اصطلاح استعمال کرنا چاہئیے۔وہ کمیونٹیز جو مسلم عقیدے سے وابستہ ہیں اس جدوجہد اور کامیابی دونوں کا مظہر ہیں جو دنیا میں نظر آتی ہے۔اوریہ بر طانیہ کی اس اہلیت کاایک بہت اہم حصہ ہے جس کے ساتھ وہ خودکو عالمی سطح پر پیش کرتا ہے یعنی یہ کہ ہم نہ صرف ایک مقام ہیں بلکہ ایک ایسا مقام ہیں جہاں نظریات اور سر مایہ آ کر اکھٹا ہو تا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کردار جو مسلمان شہری اس ملک کے لئے ادا کرتے ہیں وہ دنیا بھر میں بر طانیہ کی ابھرتی ہوئی تصویراور ابھرتی ہوئی سچائی کے لئے اس قدراہم ہے ۔یہ پیغام صرف آپ کی حج کے لئے روانگی سے ہی نہیں بلکہ آپ کی حج کے فریضے کی ادائیگی کے طور طریقے سے بھی                   

نمایاں ہوتا ہے کہ وہ کون سی اقدار ہیں جو ہمیں اس ملک میں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہیں،وہ مشترک انسانیت جو ہم سب کے لئے اہم ہے اور وہ احساس فخر جوہم سب میں موجودہے،  وہ یہ احساس برتری نہیں ہے کہ یہاں ہر شے مکمل ہے کیونکہ ایسی بات کہنا بھی حماقت ہوگی بلکہ یہ وہ احساس فخر ہے کہ کس طرح یہاں مختلف کمیونٹیز آکر آبادہوئی ہیں اور مل جل کر ایک مشترک مستقبل کی تعمیر میں مصروف ہیں۔یہ ایک ایساامتیازہے جو  ہمارے خیال میں بھر پورتوجہ کا مستحق ہے 

لہذا مجھے مد عو کرنے کابے حدشکریہ اور آخر میں آپ کو حج مبارک!