بین الاقوامی تنازعات کی روک تھام
تنازعات کی روک تھام
کافی پرانی کہاوت ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے؛ کہ تنازعات کی روک تھام کرنا واقعات ہونے کے بعد نتائج سے نمٹنے سے زیادہ بہتر ہے۔ یہ بات انسانی زندگی کی قمیت کے تعلق سے بھی صحیح ہے اور تنازعات کے خاتمے کے بعد تباہ و برباد ہوئے ممالک، علاقے اور معاشی ڈھانچوں کے تعلق سے بھی۔ برطانیہ مسلح تنازعات کی روک تھام کے لئے ثابت قدم ہے۔ برطانیہ موجود تنازعات کا حل تلاش کرنے اور تنازعات کے بعد نازک حالات میں امن قائم کرنے میں مدد کرتا رہے گا۔ موجودہ تنازعات میں سے زیادہ تر ملکوں کی اندرونی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں، نہ کہ ملکوں کے درمیان، اور تنازعات کا زیادہ اثرغریب ممالک پر ہوتا ہے۔ تنازعات کی جڑیں اور اس کی وجوہات اکثر پیچیدہ اور مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن تفریق غربت اور حقوق کی خلاف ورزی بھی اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں اور ان علاقوں میں جہاں سکیورٹی فورسز میں صحیح نظم و ضبط نہیں اور وہ عوام کے ساتھ نہیں ہیں اور ایسے ممالک جہاں آسانی سے ہتھیار حاصل کئے جا سکتے ہیں تنازعات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں برطانیہ کی مسلح افواج امن قائم کرنے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں اور قیام امن کے لئے ایسے موزوں حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو امن اور حفاظتی اقدامات کو توسیع دے اور جو ان تنازعات کی وجوہات سے نمٹ سکے۔
لیکن ایک واحد ملک اپنی کوششوں سے ایک حد تک ہی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ تنازعات کے موثر روک تھام اور مسائل کا حل بین الاقوامی کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے تنازعات کی روک تھام اور مسائل کے حل کے لئے لوگوں میں احساس بڑھتا جارہا ہے-
برطانیہ بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر بین الاقوامی ایجنڈے میں تنازعات کی روک تھام کے کام کو فروغ دینے کے لئے کام کررہا ہے۔ برطانیہ کامیاب جمہوری ممالک کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی قیام امن کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔